XyZ
on November 19, 2017
22 views
تجھےکیا کہوں میں اے زندگی ، تیرے ایک پل کی خبر نہیں
میں یقین کروں بھی تو کس طرح ، تیری شب کی کوئی سحر نہیں
میری خواہشوں کا یہ سلسہ ہے کہاں تلک یہ خبر نہیں
یہ سفر صدی پہ محیط ہے ، میری عمر ایک پہر نہیں
...
جہاں آگہی کے نہ جال ہو ، وہاں وحشتوں کے ذکر نہیں
یہاں آگہی بھی عذاب ہے ، تجھے آہ یہ بھی خبر نہیں
میں شُمار غم کروں کس طرح ، میرے پاس ایسا ہنر نہیں
میرا آج ہے ستم آشنا ، مجھے کل کی کوئی فکر نہیں
جہاں دو گھڑی کا سکوں ملے ، تیری راہ میں وہ شجر نہیں
میں تھکن سے چُور ہوں اس قدر ، کوئی سایا حد ِنظر نہیں
وہ جو اشک ِخون سے ہو آشنا ،کہیں ایسا دیدہ ِتر نہیں
میرے دل سے بڑھ کے جلا ہو جو ، یہاں کوئی ایسا جگر نہیں
تیری کج ادائے ستم گھڑی ، کوئی یہ بتائے کدھر نہیں
تو ہے بے وفائی کی داستاں،گلہ تجھ سے کوئی مگر نہیں
تجھے چھوڑنا ہے تو چھوڑ دے ، مجھے موت کا کوئی ڈر نہیں
وہ اندھیر نگری ہے گھر کوئی ، یہ بھی راحتوں کا ڈگر نہیں
Dimension: 379 x 284
File Size: 9.48 Kb
Like (1)
Loading...
1