Sign Up
My Muslim Friends Book - helps you connect and share with over 500,000+ Muslims in over 175 Countries.

تقدیر کا مطلب اور اس پر ایمان

""تقدیر کا مطلب اور اس کا مفہوم


تقدیر:


 انسان کے بارے میں خدا کے فیصلے ہیں۔ خدا کے بعض فیصلوں میں انسان مجبور ہوتا ہے، مثلاً یہ کہ وہ کہاں پیدا ہو گا، اس کے ماں باپ کون ہوں گے، اسے کتنی عمر ملے گی وغیرہ، وغیرہ۔ البتہ خدا کے بعض فیصلوں میں وہ اپنے افعال و اعمال کا ارادہ کرنے کی حد تک آزاد ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اعمال کا ذمہ دار سمجھا جاتا ہے اور اسے ان پر نیکی یا بدی ملتی ہے۔


تقدیر کو یوں بیان کرنا کہ ہم صرف وہی کچھ کر سکتے جو پہلے سے ہمارے مقدر میں لکھا ھوتا ہے غلط فہمی پیدا کر سکتا ھے ، پھر کوئی یہ مطلب بھی اخذ کر سکتا کہ اس دنیا میں ہونے والے جرائم اور اچھے اعمال کا ذمہ دار صرف خدا ہے، انسان تو معصوم ہیں، لیکن ظاہر ہے کہ یہ نتیجہ کسی صورت بھی درست نہیں ہے۔


صحیح بات یہ ہے کہ ہم جو اعمال بھی سر انجام دیتے ہیں، خدا کی اجازت کے ساتھ اپنی مرضی سے انجام دیتے ہیں۔ چنانچہ ہم اس لیے صالح کہلاتے ہیں کہ ہم نے خدا کی اجازت کو اپنی مرضی سے اس کی پسند کے مطابق استعمال کرتے ہوئے، نیک کام کیا ہوتا ہے اور اس لیے مجرم کہلاتے ہیں کہ ہم نے خدا کی اجازت کو اپنی مرضی سے اس کی پسند کے خلاف استعمال کرکے برا کام کیا ہوتا ہے۔


تقدیر پر ایمان لانے کیلئے چار امور ہیں:


اول:


 اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی تمام چیزوں کے بارے میں اجمالی اور تفصیلی ہر لحاظ سے ازل سے ابد تک علم رکھتا ہے، اور رکھے گا، چاہے اس علم کا تعلق اللہ تعالی کے اپنے افعال کے ساتھ ہو یا اپنے بندوں کے اعمال کے ساتھ۔ 


دوم:


 اس بات پر ایمان لانا کہ اللہ تعالی نے تقدیر کو لوحِ محفوظ میں لکھ دیا ہے۔


مذکورہ بالا دونوں امور کی دلیل فرمانِ باری تعالی ہے :


( أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاءِ وَالأَرْضِ إِنَّ ذَلِكَ فِي كِتَابٍ إِنَّ ذَلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ )


ترجمہ: کیا آپ نہیں جانتے کہ اللہ تعالی جو کچھ آسمانوں میں ہے یا زمین پر سب کو بخوبی جانتا ہے، اور یہ سب کچھ کتاب [لوحِ محفوظ] میں لکھا ہوا ہے، اور [ان سب کے بارے میں ]علم رکھنا اللہ کیلئے بہت آسان ہے۔ (الحج-70)


جبکہ صحیح مسلم (2653) میں عبد اللہ بن عَمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے ہے کہ آپ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرما رہے تھے: (اللہ تعالی نے آسمان و زمین کی تخلیق سے پچاس ہزار سال پہلے ہی تمام مخلوقات کی تقدیریں لکھ دی تھیں) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (سب سے پہلے اللہ تعالی نے قلم کو پیدا فرمایا، اور اسے حکم دیا: "لکھو!" تو قلم نے کہا: یا رب! میں کیا لکھوں؟ اللہ تعالی نے اسے فرمایا: "قیامت قائم ہونے تک آنے والی مخلوقات کی تقدیریں لکھ دو") أبو داود (4700) نے اسے روایت کیا ہے، اور البانی نے صحيح أبو داود میں اسے صحیح قرار دیا ہے۔


سوم:


 اس بات پر ایمان ہو کہ ساری کائنات کے امور مشیئتِ الہی کے بغیر نہیں چل سکتے، چاہے یہ افعال اللہ سبحان و تعالی کی ذات سے تعلق رکھتے ہوں یا مخلوقات سے، چنانچہ اپنے افعال کے بارے میں اللہ تعالی فرماتا ہے


(وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ )


ترجمہ: اور آپکا رب جو چاہتا اور پسند کرتا ہے وہی پیدا کردیتا ہے۔ (القصص-68)


( وَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ )


ترجمہ: اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے، وہی کرتا ہے۔ (ابراهيم 27)


( هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ )


ترجمہ: وہ ہی ہے وہ ذات جو تمہاری شکمِ مادر کے اندر جیسے چاہتا ہے شکلیں بنا دیتا ہے۔ (آل عمران-6) 


 سورہ انعام میں فرمایا:


( وَلَوْ شَاءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوهُ )


ترجمہ:اور اگر تمہارا رب چاہتا تو وہ کچھ بھی نا کرپاتے۔ (الأنعام-112)


چنانچہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام تغیرات اور حرکات وسکنات اللہ کی مشیئت ہی سے وقوع پذیر ہوتے ہیں، اللہ تعالی جو چاہتا ہے وہ ہو جاتا ہے، اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔


چہارم:


 اس بات پر ایمان لانا کہ تمام کائنات اپنی ذات، صفات، اور نقل وحرکت کے اعتبار سے اللہ تعالی کی مخلوق ہے، اس بارے میں فرمایا:


( اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ )


ترجمہ:اللہ تعالی ہی ہر چیز کا خالق ہے، اور وہ ہر چیز پر نگہبان ہے۔ (الزمر-62)


( وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيراً )


ترجمہ: اور اللہ تعالی ہی نے ہر چیز کو پیدا فرمایا، اور انکا اچھی طرح اندازہ بھی لگایا۔ (الفرقان-2)


 اسی طرح اللہ تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا تھا


( وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ )


ترجمہ:اور اللہ تعالی نے تمہیں اور تمہارے اعمال کو پیدا کیا ہے۔ (الصافات-96)


چنانچہ اگر کوئی شخص مذکورہ بالا امور پر ایمان لے آئے تو اسکا تقدیر پر ایمان درست ہوگا۔


ہم نے تقدیر پر ایمان کے بارے میں جو گفتگو کی ہے یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ بندے کی اپنے اختیاری افعال میں کوئی بس ہی نا چلے، اور بندہ خود سے کچھ کرنے کے قابل ہی نہ ہو، کہ بندے کو کسی نیکی یا بدی کرنے کا مکمل اختیار نا دیا جائے، یہی وجہ ہے کہ لوگ نیکی بدی سب کرتے ہیں، شریعت اور حقائق اسی بات پر دلالت کرتے ہیں کہ بندے کی اپنی مشیئت بھی ہوتی ہے۔


شریعت سے دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالی نے بندے کی مشیئت کے بارے میں فرمایا:


( ذَلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ مَآباً )


ترجمہ: قیامت کا دن سچا دن ہے، چنانچہ جو چاہتا ہے وہ اپنے رب کی طرف لوٹنے کی جگہ مقرر کر لے۔ (النبأ-39)


 سورہ بقرہ میں فرمایا:


( لا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْساً إِلا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ )


ترجمہ: اللہ تعالی کسی نفس کو اسکی طاقت سے بڑھ کر مکلف نہیں بناتا، چنانچہ جواچھے کام کریگا اسکا فائدہ اُسی کو ہوگا، اور جو برے کام کریگا اسکا وبال بھی اُسی پر ہوگا۔ (البقرة-286)


مندرجہ بالا آیات میں انسانی ارادہ ، اور استطاعت و قوت کو ثابت کیا گیا ہے، انہی دونوں اشیاء کی وجہ سے انسان جو چاہتا ہے کرتا ہے، اور جو چاہتا ہے اسے چھوڑ دیتا ہے لیکن اللہ کی یجازت کے ساتھ۔[عقلی طور پر بھی]یہ ساری کائنات اللہ تعالی کی بادشاہت میں ہے، اس لئے اس کائنات میں کوئی بھی کام اللہ تعالی کے علم و مشیئت کے بغیر نہیں ہوسکتا۔


وَمَا تَشَاءُونَ إِلا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ 


 

Captcha Challenge
Reload Image
Type in the verification code above